مرحلہ وار طریقے سے کھلے گے نویں سے بارہویں تک سکول ہر اسکول میں ہوگا کورنٹائن سینٹر، بچوں کےلئے بھی اہم ہدایت جاری کی گیں

مرحلہ وار طریقے سے کھلے گے نویں سے بارہویں تک سکول ہر اسکول میں ہوگا کورنٹائن سینٹر، بچوں کےلئے بھی اہم ہدایت جاری کی گیں



مرحلہ وار طریقے سے کھلے گے نویں سے بارہویں تک سکول ہر اسکول میں ہوگا کورنٹائن سینٹر، بچوں کےلئے بھی اہم ہدایت جاری کی گیں




: سرینگر /  30اگست


مرحلہ وار طریقے سے نویں سے بارہویں جماعت تک کے سکول ، کالج اور یونیورسٹیوں اور کوچنگ سنٹروں کو مرحلہ وار طریقے سے کھولا جارہا ہے ۔ 

اس دوران مرکز نے بتایا ہے کہ ہر سکول میں کورنٹائن سنٹر ، کووڈ ٹسٹنگ سہولیت اور دیگر طبی خدمات رکھنا ضروری ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق دہلی میں ایک ستمبر سے مرحلہ وار طریقے سے نویں سے بارہویں جماعت کے اسکول، کالج، یونیورسٹی اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کھلیں گے۔ یہ فیصلہ ڈی ڈی ایم اے DDMA کے میٹنگ میں لیا گیا ہے۔ دہلی میں اسکول 1 ستمبر کو نویں سے بارہویں اور آٹھ ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں تک کے اسکول کھلیں گے۔ اس تعلق سے دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی میٹنگ بلائی گئی تھی۔ ڈی ڈی ایم اے کی تشکیل کردہ کمیٹی نے اسکول کھولنے کی سفارش کی تھی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے قبل ڈی ڈی ایم اے کے فیصلے پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹویٹ کیا تھا کہ کورونا کے کم ہوتے معاملوں کے درمیان دہلی میں بتدریج مکمل احتیاط کے ساتھ اسکول کھولے جا رہے ہیں تاکہ بچوں کی تعلیم کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ 

ہمیں زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے اور بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کا خیال رکھنا ہے۔اسکول کے سربراہوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکول میں آنے والے تمام اساتذہ اور اسٹاف ویکسینیٹڈ ہوں۔ اگر انہوں نے ویکسین نہیں لی ہے تو اسے ترجیح دینی پڑے گی۔

ایک وقت میں 50 فیصد تک بچے کلاس کے اندر حاضری لے سکیں گے،اسکول کے احاطے میں کورنتائن کمرہ بنانا لازمی ہے ، جہاں ضرورت پڑنے پر کسی بھی بچے یا اسٹاگ کو رکھا جا سکتا ہے۔ہر کلاس میں سماجی دوری کے لیے ایک مختلف وقت کا فارمولہ ہوگا۔صبح اور شام کی شفٹوں والے اسکولوں میں ، دو شفٹوں کے درمیان کم از کم ایک گھنٹے کا وقفہ ہوگا۔بچوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا کھانا ، کتابیں اور دیگر اسٹیشنری اشیاء ایک دوسرے کے ساتھ شیئر نہ کریں۔لنچ بریک کو کسی کھلی جگہ میں الگ۔

الگ رلھنے کی صلاح دی گئی ہے تاکہ ایک وقت میں بہت زیادہ ہجوم جمع نہ ہو۔بیٹھنے کا انتظام اس طرح کیا جائے کہ ایک سیٹ چھوڑ کر بیٹھنے کا انتظام ہو۔وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہا کہ بچوں کو اسکولوں میں مدعو کرنے سے پہلے ان کے والدین کی منظوری لی جائے گی۔ 

والدین کی اجازت کے بغیر بچوں کو اسکول جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ نیز، تمام تعلیمی سرگرمیاں آف لائن کے ساتھ ساتھ آن لائن بھی مخلوط انداز میں چلتی رہیں گی۔ 

جلد ہی حکومت کی طرف سے اسکول کھولنے کے لیے ایس او پی جاری کیا جائے گا۔ نائب وزیر اعلی نے بتایا کہ دہلی حکومت اسکول کھولنے کے لیے تیار ہے۔دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے 98 فیصد اساتذہ اور باقی عملے کو کم ازکم ویکسین کی پہلی خوراک ملی ہے۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ اسکولوں کے بیشتر اساتذہ اور عملے کو ویکسین دی گئی ہے۔

 یہ قابل ذکر ہے کہ دہلی حکومت کی طرف سے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے والدین سے ای میل کے ذریعے تجاویز مانگی گئی تھیں، جس میں 70 فیصد سے زیادہ والدین کا خیال تھا کہ اسکولوں کو دوبارہ کھولنا چاہیے۔ دوسرے والدین نے بھی مرحلہ وار اسکول کھولنے کے لیے تجاویز بھیجی ہیں۔

منیش سسودیا نے کہا کہ والدین کی رضامندی کے بغیر اسکول آنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔ اسکولوں میں سماجی دوری (سوشل ڈیسٹنسنگ) پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور اس کے لیے ایس او پی جاری کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے کے تجربات کی بنیاد پر دیگر کلاسوں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ 

وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹویٹ کیا کہ، کورونا کے کم ہوتے ہوئے کیسز کے درمیان، دہلی میں آہستہ آہستہ مکمل احتیاط کے ساتھ اسکول کھولے جارہے ہیں تاکہ بچوں کی تعلیم کے نقصان کو کم کیا جاسکے۔ ہمیں زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے اور بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کا خیال رکھنا ہے۔

No comments

Powered by Blogger.
close